Sahih Bukhari — Hadith 3027
Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قِيلَ لِأُسَامَةَ لَوْ أَتَيْتَ فُلَانًا فَکَلَّمْتَهُ قَالَ إِنَّکُمْ لَتُرَوْنَ أَنِّي لَا أُکَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُکُمْ إِنِّي أُکَلِّمُهُ فِي السِّرِّ دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا لَا أَکُونُ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ کَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ شَيْئٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ يُجَائُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَی فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ فَيَدُورُ کَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ أَيْ فُلَانُ مَا شَأْنُکَ أَلَيْسَ کُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنْ الْمُنْکَرِ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ الْمُنْکَرِ وَآتِيهِ رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ
علی سفیان اعمش ابووائل سے روایت کرتے ہیں ابووائل کہتے ہیں کہ اسامہ سے کہا گیا کہ اے کاش آپ فلاں شخص (یعنی حضرت عثمان) کے پاس جاتے اور ان سے (فتنہ کی آگ بھجانے کے سلسلے میں) گفتگو کرتے تو اسامہ نے کہا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے صرف تمہارے سنانے کے لئے بات چیت کرتا ہوں میں تو بغیر اس کے اس (فتنہ) کے نئے باب کا آغاز کروں ان سے خلوت میں گفتگو کرتا ہوں میں فتنہ پیدا کرنے والا سب سے پہلا شخص نہیں بن سکتا اور نہ میں اس شخص کو جو میرا حاکم ہے یہ کہوں گا کہ وہ تمام لوگوں سے بہتر ہے جب سے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سن چکا ہوں کہ لوگوں نے کہا کہ آپ نے کیا بات سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا پھر اسے جہنم میں ڈالا جائے گا تو اس کی آنتیں آگ میں نکل پڑیں گی پس وہ اس طرح گردش کرے گا جس طرح گدھا ایک چکی کو لے کر (اس کے گرد) گھومتا ہے پھر دوزخی اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں تیرا یہ حال کیوں ہے کیا تو ہمیں اچھی باتوں کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا نہ تھا وہ کہے گا (ہاں) میں تمہیں اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا مگر خود اپنی باتوں پر عمل نہ کرتا تھا اور تم کو بری باتوں سے روکتا تھا مگر خود برائیوں میں مبتلا ہوجاتا تھا۔
Narrated Abu Wail: Somebody said to Usama, "Will you go to so-and-so (i.e. 'Uthman) and talk to him (i.e. advise him regarding ruling the country)?" He said, "You see that I don't talk to him. Really I talk to (advise) him secretly without opening a gate (of affliction), for neither do I want to be the first to open it (i.e. rebellion), nor will I say to a man who is my ruler that he is the best of all the people after I have heard something from Allah s Apostle ." They said, What have you heard him saying? He said, "I have heard him saying, "A man will be brought on the Day of Resurrection and thrown in the (Hell) Fire, so that his intestines will come out, and he will go around like a donkey goes around a millstone. The people of (Hell) Fire will gather around him and say: O so-and-so! What is wrong with you? Didn't you use to order us to do good deeds and forbid us to do bad deeds? He will reply: Yes, I used to order you to do good deeds, but I did not do them myself, and I used to forbid you to do bad deeds, yet I used to do them myself."