TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 3296 · Explanation of Prophets (A.S)

Sahih BukhariHadith 3296

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا

عبداللہ بن یوسف مالک ابن شہاب عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے آسان کام کو اختیار فرما لیتے اگر وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ کام گناہ (کا سبب) ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے (کبھی کسی بات میں کسی سے) انتقام نہیں لیا مگر اللہ تعالیٰ کی حرمت کے خلاف (کوئی) کام کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور خدا کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے۔

Narrated 'Aisha: Whenever Allah's Apostle was given the choice of one of two matters, he would choose the easier of the two, as long as it was not sinful to do so, but if it was sinful to do so, he would not approach it. Allah's Apostle never took revenge (over anybody) for his own sake but (he did) only when Allah's Legal Bindings were outraged in which case he would take revenge for Allah's Sake.

Permalink

See the full chapter: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کا بیان