TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 3536 · Explanation of Prophets (A.S)

Sahih BukhariHadith 3536

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَائٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا هِيَ أَتَتْکَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاعَ لِذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَالَةَ قَالَتْ فَغِرْتُ فَقُلْتُ مَا تَذْکُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَائِ الشِّدْقَيْنِ هَلَکَتْ فِي الدَّهْرِ قَدْ أَبْدَلَکَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا

قتیبہ بن سعید محمد بن فضیل عمارہ ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک برتن لئے آ رہی ہے جس میں سالن کھانا یا پینے کی کوئی چیز ہے جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو اللہ تعالیٰ کی اور میری طرف سے انہیں سلام کہیے اور جنت میں موتی کے محل کی بشارت دیجئے جس میں نہ شور و شغب ہوگا نہ تکلیف اسماعیل بن خلیل علی بن مسہر ہشام ان کے والد نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن ہالہ بنت خویلد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اجازت مانگنا سمجھا تو آپ (مارے رنج کے) لرزنے لگے پھر آپ نے فرمایا خدایا یہ تو ہالہ ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے بڑا رشک آیا۔ تو میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیا یاد کرتے ہیں یعنی ایک سرخ رخساروں والی قریشی بڑھیا کو جسے مرے ہوئے بھی زمانہ ہوگیا (حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے بہتر بدل عطا فرمایا۔

Narrated Abu Huraira: Gabriel came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! This is Khadija coming to you with a dish having meat soup (or some food or drink). When she reaches you, greet her on behalf of her Lord (i.e. Allah) and on my behalf, and give her the glad tidings of having a Qasab palace in Paradise wherein there will be neither any noise nor any fatigue (trouble) . " Narrated 'Aisha: Once Hala bint Khuwailid, Khadija's sister, asked the permission of the Prophet to enter. On that, the Prophet remembered the way Khadija used to ask permission, and that upset him. He said, "O Allah! Hala!" So I became jealous and said, "What makes you remember an old woman amongst the old women of Quraish an old woman (with a teethless mouth) of red gums who died long ago, and in whose place Allah has given you somebody better than her?"

Permalink

See the full chapter: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح اور ان کی فضیلت کا بیان