Sahih Bukhari — Hadith 3611
Narrated by 'Ata bin Abi Rabah
وَحَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ فَسَأَلْنَاهَا عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَتْ لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ کَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی وَإِلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَالْيَوْمَ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَائَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ
یحیی بن حمزہ اوزاعی عطا بن ابی رباح سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر لیثی کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زیارت کے لئے گیا تو ہم نے ان سے ہجرت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اب ہجرت نہیں ہے (پچھلے زمانہ میں ہجرت کا منشا یہ تھا کہ) مسلمان اپنے دین کو (محفوظ رکھنے کے لئے) اللہ و رسول کی طرف فتنہ میں پڑ جانے کے خوف سے بھاگ کر آئے تھے لیکن اب اللہ نے اسلام کو غالب کردیا لہذا اب کوئی جہاں جی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے البتہ جہاد اور نیت کا ثواب ملتا ہے۔
Narrated 'Ata bin Abi Rabah: 'Ubaid bin 'Umar Al-Laithi and I visited Aisha and asked her about the Hijra (i.e. migration), and she said, "Today there is no (Hijrah) emigration. A believer used to run away with his religion to Allah and His Apostle lest he should be put to trial because of his religion. Today Allah has made Islam triumphant, and today a believer can worship his Lord wherever he likes. But the deeds that are still rewardable (in place of emigration) are Jihad and good intentions." (See Hadith No. 42 Vol. 4).