Sahih Bukhari — Hadith 3625
Narrated by Abu 'Uthman
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قِيلَ لَهُ هَاجَرَ قَبْلَ أَبِيهِ يَغْضَبُ قَالَ وَقَدِمْتُ أَنَا وَعُمَرُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ قَائِلًا فَرَجَعْنَا إِلَی الْمَنْزِلِ فَأَرْسَلَنِي عُمَرُ وَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ هَلْ اسْتَيْقَظَ فَأَتَيْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ اسْتَيْقَظَ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ نُهَرْوِلُ هَرْوَلَةً حَتَّی دَخَلَ عَلَيْهِ فَبَايَعَهُ ثُمَّ بَايَعْتُهُ
محمد بن صباح اسماعیل عاصم ابوعثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا جاتا کہ انہوں نے اپنے والد سے پہلے ہجرت کی ہے تو وہ ناراض ہو جاتے اور فرماتے کہ (ہجرت کرکے) میں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ہم نے آپ کو سوتا ہوا پایا تو ہم گھر کو واپس چلے گئے پھر مجھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھیجا اور کہا کہ جا کر دیکھو کیا آپ بیدار ہو گئے ہیں؟ میں آپ کے پاس آیا اور اندر چلا گیا پھر میں نے آپ سے بیعت کی پھر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ آپ بیدار ہو چکے ہیں لہذا ہم دونوں دوڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر چلے گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی پھر میں نے بیعت کی۔
Narrated Abu 'Uthman: I heard that Ibn 'Umar used to become angry if someone mentioned that he had migrated before his father ('Umar), and he used to say, " 'Umar and I came to Allah's Apostle and found him having his midday rest, so we returned home. Then 'Umar sent me again (to the Prophet ) and said, 'Go and see whether he is awake.' I went to him and entered his place and gave him the pledge of allegiance. Then I went back to 'Umar and informed him that the Prophet was awake. So we both went, running slowly, and when 'Umar entered his place, he gave him the pledge of allegiance and thereafter I too gave him the pledge of allegiance,"