TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 3829 · Statement on Battles

Sahih BukhariHadith 3829

Narrated by Ibn Abi Malaika

حَدَّثَنِي يَحْيَی حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَانَتْ تَقْرَأُ إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْکَذِبُ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ وَکَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِکَ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا

یحیی بن جعفر، وکیع، نافع، ابن عمر، عبداللہ بن ابی ملیکہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سورت نور کی یه آیت اس طرح تلاوت کی (اِذْ تَلَقَّوْنَه بِاَلْسِنَتِكُمْ) 24۔ النور : 15) لام کے زیر کے ساتھ پڑھی اور فرماتی تھیں که یه ولق سے نکلا ہے اور اس کے معنی جھوٹ کے ہیں ۔ عبدالله بن ابی ملیکه کا بیان ہے که حضرت عائشه اس آیت کوسب سے زیاده جانتی تھیں کیونکه یه انهیں کے معامله سے تعلق رکھتی ہے۔

Narrated Ibn Abi Malaika: 'Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her.

Permalink

See the full chapter: قصہ افک یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تہمت لگانے کا بیان افک کا لفظ نجس اور نجس کی طرح ہے اور کہتے ہیں اس کو افکھم۔