Sahih Bukhari — Hadith 4078
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ فَقَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَوْصَاهُمْ بِثَلَاثٍ قَالَ أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا کُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَسَکَتَ عَنْ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا
قتیبہ سفیان سلیمان سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جمعرات کا دن جمعرات کا دن ہاں اسی دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت شدت کا درد ہو رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لاؤ سامان لکھنے کا میں ایک تحریر لکھوا دوں اگر تم نے اس پر عمل کیا تو پھر گمراہ نہ ہو گے لوگ جھگڑنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھگڑا کرنا اچھا نہیں ہے کسی نے کہا بیماری کی شدت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بول رہے ہیں لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ پوچھو لوگوں نے پوچھنا شروع کردیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہنے دو میں جس مقام میں ہوں وہ اس سے اچھا ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبانی تین ہدایات فرمائیں اول میرے بعد مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا دوسرے سفیروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا سعید بن جبیر نے کہا کہ ابن عباس تیسری بات بھول گئے۔
Narrated Ibn Abbas: Thursday! And how great that Thursday was! The ailment of Allah's Apostle became worse (on Thursday) and he said, fetch me something so that I may write to you something after which you will never go astray." The people (present there) differed in this matter, and it was not right to differ before a prophet. Some said, "What is wrong with him ? (Do you think ) he is delirious (seriously ill)? Ask him ( to understand his state )." So they went to the Prophet and asked him again. The Prophet said, "Leave me, for my present state is better than what you call me for." Then he ordered them to do three things. He said, "Turn the pagans out of the 'Arabian Peninsula; respect and give gifts to the foreign delegations as you have seen me dealing with them." (Said bin Jubair, the sub-narrator said that Ibn Abbas kept quiet as rewards the third order, or he said, "I forgot it.") (See Hadith No. 116 Vol. 1)