TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4428 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4428

Narrated by Abu Dharr

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَذَلِکَ قَوْلُهُ تَعَالَی وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ

ابو نعیم، اعمش، ابراہیم تیمی، اپنے والد سے، وہ ابوذر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں آفتاب غروب ہونے کے وقت مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر! کیا تم جانتے ہو کہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ جاتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے قول(وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ) کے یہی معنی ہیں۔

Narrated Abu Dharr: Once I was with the Prophet in the mosque at the time of sunset. The Prophet said, "O Abu Dharr! Do you know where the sun sets?" I replied, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and prostrates underneath (Allah's) Throne; and that is Allah's Statement:-- 'And the sun runs on its fixed course for a term (decreed). And that is the decree of All-Mighty, the All-Knowing....' (36.38)

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت یٰسین اور مجاہد نے کہا کہ "فعززنا " کے معنی شددنا یعنی ہم نے قوت دی "یاحسرۃ علی العباد" افسوس ہے ان بندوں پر جنہوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا " ان تدرک القمر" ان میں ایک کی روشنی دوسرے کی روشنی کو نہ چھپائے گی اور نہ ان کے لئے یہ مناسب ہے "سابق النھار" دونوں ایک دوسرے کو طلب کرتیہوئے آگے پیچھے دوڑتیہیں "نسلخ" ہم ان میں سے ایک کو دوسرے سے نکالتے ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک چلتا رہتا ہے "من مثلہ" یعنی چوپائے کی طرح "فکھون" خوش و خرم "جند محضرون" حساب کے وقت فوج حاضر کی جائے گی عکرمہ سے منقول ہے کہ "مشحون" بھری ہوئی کو کہتے ہیں ابن عباس نے کہا کہ "طائر کم" سے مراد تمہاری مصیبتیں ہیں "ینسلون" باہر نکل پڑیں گے "مرقدنا " ہمارے نکلنے کی جگہ " احصیناہ" ہم نے اس کو محفوظ کر لیا اور "مکانتھم اور مکانھم" کے ایک ہی معنی ہیں اور سورج اپنے مقررہ راسۃ پر گردش کرتا ہے یہ اس کا مقرر کردہ انداز ہے جو قوی اور جاننے والا ہے ۔