Sahih Bukhari — Hadith 4450
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَی قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ السَّنَةُ حَتَّی حَصَّتْ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی أَکَلُوا الْعِظَامَ وَالْجُلُودَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ حَتَّی أَکَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنْ الْأَرْضِ کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَکَ قَدْ هَلَکُوا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَکْشِفَ عَنْهُمْ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ تَعُودُونَ بَعْدَ هَذَا فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ ثُمَّ قَرَأَ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَی عَائِدُونَ أَنَکْشِفُ عَنْهُمْ عَذَابَ الْآخِرَةِ فَقَدْ مَضَی الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَقَالَ أَحَدُهُمْ الْقَمَرُ وَقَالَ الْآخَرُ وَالرُّومُ
بشر بن خالد، محمد، شعبہ، سلیمان و منصور، ابوالضحیٰ، مسروق سے روایت کرتے ہیں عبداللہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور کہا کہ آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ خود ساختہ باتیں کرتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ قریش نے نافرمانی کی تو آپ نے فرمایا کہ یا اللہ یوسف علیہ السلام کی سی قحط سالی کے ذریعے ان (کافروں) کے خلاف ہماری مدد فرما تو وہ لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے یہاں تک کہ تمام چیزیں ختم ہو گئیں اور اس کی نوبت پہنچی کہ ہڈیاں اور چمڑے کھانے لگے ان میں سے کسی شخص نے بیان کیا کہ یہاں تک کہ چمڑے اور مردار کھانے لگے اور زمین سے دھواں سا نکلنے لگا تو آپ کے پاس ابوسفیان آیا اور عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قوم ہلاک ہوگئی اللہ سے دعا کرو کہ ان پر سے مصیبت دور کردے تو آپ نے دعا فرمائی پھر آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے منصور کی حدیث میں ہے کہ پھر عبداللہ بن مسعود نے آیت (فَارْتَ قِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَا ءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ سے الی عائدون تک) 44 ۔ الدخان : 10) تلاوت کی کیا آخرت کا عذاب دور کیا جائے گا دھواں بطشہ (یوم بدر) لزام (ہلاک یوم بدر) گزر چکے بعض نے شق المقر کا تذکرہ کیا اور کسی نے اہل روم کی فتح کا ۔ (آیت) جس دن کہ ہم بری پکڑ پکڑیں گے بے شک ہم بدلہ لینے والے ہیں۔
Narrated Abdullah: Allah sent (the Prophet) Muhammad and said:-- 'Say, No wage do I ask of you for this (Qur'an) nor am I one of the pretenders (i.e. a person who pretends things which do not exist). (38.68) When Allah's Apostle saw Quraish standing against him, he said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine similar to the seven years (of famine) of Joseph. So they were afflicted with a year of drought that destroyed everything, and they ate bones and hides. (One of them said), "And they ate hides and dead animals, and (it seemed to them that) something like smoke was coming out of the earth. So Abu Sufyan came to the Prophet and said, "O Muhammad! Your people are on the verge of destruction! Please invoke Allah to relieve them." So the Prophet invoked Allah for them (and the famine disappeared). He said to them. "You will revert (to heathenism) after that." 'Abdullah then recited: 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible.......but truly you will revert (to disbelief).' He added, "Will the punishment be removed from them in the Hereafter? The smoke and the grasp and the Al-Lizam have all passed." One of the sub-narrater said, "The splitting of the moon." And another said, "The defeat of the Romans (has passed)."