TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4462 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4462

Narrated by Al-Bara

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَفَرَسٌ لَهُ مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ فَجَعَلَ يَنْفِرُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا وَجَعَلَ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ

عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، ابواسحاق، براء سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی قرات کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا گھر میں بندھا ہوا تھا کہ وہ بھاگنے لگا باہر نکل کر دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا وہ گھوڑا بدک رہا تھا جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہی سکینہ ہے جو قرات قرآن کے وقت نازل ہوتی ہے۔ (آیت) اس وقت کو یاد کیجئے جب وہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔

Narrated Al-Bara: While a man from the companions of the Prophet was reciting (Quran) and his horse was tied in the house, the horse got startled and started jumping. The man came out, looked around but could not find anything, yet the horse went on jumping. The next morning he mentioned that to the Prophet. The Prophet said, "That was the tranquility (calmness) which descended because of the recitation of the Quran."

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت الفتح اور مجاہد نے کہا کہ سیماھم فی وجوھہم میں سیما سے مراد چہرے کی نرمی اور ہئیت اور منصور نے بواسطہ مجاہد نقل کیا کہ اس سے مراد تواضع ہے شطأہ اپنی سوئی اپنی کلی فاستغلظ موٹا ہوا۔ سوق ساق کی جمع یعنی شاخ جو درختوں کو اٹھانے والی ہو اور دائرۃ السوء رجل السوء کی طرح ہے یعنی بری گردش دائر السوء سے مراد عذاب ہے تعزروہ تم اس کی مدد کرو شطہ بالی کا پٹھا کہ ایک دانہ سے دس آٹھ یا سات بالیان اگتی ہیں چنانچہ ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ فازرہ یعنی اس کو تقویت پہنچائی اور اگر وہ ایک ہوئی تو شاخ پر قائم نہ رہ سکتی یہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے اس لئے کہ آپ تنہا نکلے پھر آپ کے اصحاب کے ذریعہ آپ کو قوت پہنچائی جس طرح ایک دانہ کو اس کے ذریعہ قوت بہم پہنچاتا ہے۔ جو اس سے اگتی ہے۔ (آیت) بے شک ہم نے فتح دی آپ کو ظاہر فتح۔