Sahih Bukhari — Hadith 4466
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ أَسْأَلُهُ فَقَالَ كُنَّا بِصِفِّينَ فَقَالَ رَجُلٌ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ عَلِيٌّ نَعَمْ فَقَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا فَرَجَعَ مُتَغَيِّظًا فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى جَاءَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ قَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ
احمد بن اسحاق سلمی، یعلی، عبدالعزیز بن سیاہ، حبیب بن ثابت سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں ابووائل کے پاس (کچھ) پوچھنے کے لئے آیا تھا تو انہوں نے کہا کہ ہم جنگ صفین میں شریک تھے تو ایک شخص نے کہا کیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو اللہ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں تو حضرت علی نے فرمایا ہاں! سہل بن حنیف نے کہا تم اپنے آپ کو متھم کرو (یعنی جنگ کی رائے مناسب نہیں) ہم نے یوم حدیبیہ یعنی حدیبیہ کے دن دیکھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی۔ اگر ہم لوگ یہ لڑائی دیکھتے تو ضرور لڑتے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کیا، کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہیں جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ پھر کیوں ہم اپنے دین میں ذلت کو آنے دیں اور آئے ہوئے مسلمانوں کو واپس کردیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان (اس قسم کی صلح) کا حکم نہیں فرمایا آپ نے فرمایا کہ اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصہ کی حالت میں واپس ہوئے اور انہیں صبر نہ ہوا۔ حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا ہم حق پر اور (مشرکین) باطل پر نہیں ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ان کو کبھی ضائع نہ کرے گا چنانچہ سورت فاتح نازل ہوئی۔
-