TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4533 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4533

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَتْمَمْتُ کَلَامِي حَتَّی قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا صَغَوْتُ وَأَصْغَيْتُ مِلْتُ لِتَصْغَى لِتَمِيلَ وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ عَوْنٌ تَظَاهَرُونَ تَعَاوَنُونَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ أَوْصُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَأَدِّبُوهُمْ

علی سفیان، یحیی بن سعید، عبید بن حنین، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھنا چاہا تو میں نے کہا اے امیرالمومنین! وہ دو عورتیں کون تھیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اتفاق کرلیا تھا میں گفتگو ختم بھی کرنے نہیں پایا تھا کہ انہوں نے کہا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھیں۔ (آیت) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلو تمہارے دل اٹل ہو رہے ہیں اور اگر پیغمبر کے مقابلہ میں تم دونوں کاروائیاں کرتی ہو تو پیغمبر کا رفیق اللہ تعالیٰ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے مدد گار ہیں۔ "صغوت" اصغیت میں مائل ہو " لتصغی" تاکہ تو مائل ہو ظہیر بمعنی مدد گار "تظاھرون" تم مدد کرتے ہو اور مجاہد نے کہا کہ اپنی جانوں اور گھر والوں کو بچاؤ اپنی جانوں اور گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرو اور ان کو آداب سکھاؤ۔

Narrated Ibn Abbas: I intended to ask 'Umar so I said, "Who were those two ladies who tried to back each other against the Prophet?" I hardly finished my speech when he said, They were 'Aisha and Hafsa."

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت تحریم! اے نبی کیوں اپنی بیویوں کی رضاء جوئی کے لئے اس چیز کو اپنے اوپر حرام کرتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔