TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4547 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4547

Narrated by Musa bin Abi Aisha

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَی لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَانَ يُحَرِّکُ شَفَتَيْهِ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ يَخْشَی أَنْ يَنْفَلِتَ مِنْهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِکَ وَقُرْآنَهُ أَنْ تَقْرَأَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ يَقُولُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ أَنْ نُبَيِّنَهُ عَلَی لِسَانِکَ

عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے قول (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ) 75۔ القیامۃ : 16) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا جب آپ پر قرآن نازل ہوتا تو آپ اپنے دونوں ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے تو یہ کہا گیا کہ آپ بھول جانے کے خوف سے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں اس لئے کہ ہم پر اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہے جمع کرنے سے مراد سینے میں جمع کرنا اور پڑھوانا یہ کہ آپ اس کو پڑھیں گے پس جب ہم اس کو پڑھیں یعنی آیت نازل کی جائے تو جبریل کی قرات کی اتباع کرو پھر ہم پر اس کا بیان کرنا ہے یعنی ہم آپ کی زبان سے بیان کرا دیں گے (آیت) فَإِذَا قَرَأْنَاهُ۔75۔ القیامۃ) کے متعلق ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ قراناہ سے مراد یہ ہے کہ ہم اس کو بیان کریں اور فاتبع سے مراد یہ ہے کہ آپ اس پر عمل کریں گے۔

Narrated Musa bin Abi Aisha: That he asked Said bin Jubair regarding (the statement of Allah). 'Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith.' He said, "Ibn 'Abbas said that the Prophet used to move his lips when the Divine Inspiration was being revealed to him. So the Prophet was ordered not to move his tongue, which he used to do, lest some words should escape his memory. 'It is for Us to collect it' means, We will collect it in your chest;' and its recitation' means, We will make you recite it. 'But when We recite it (i.e. when it is revealed to you), follow its recital; it is for Us to explain it and make it clear,' (i.e. We will explain it through your tongue).

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت قیامۃ(آیت) اس کے ساتھ زبان نہ ہلاؤ تاکہ جلد یاد ہو جائے اور ابن عباس نے کہا سدا بمعنی مہمل لیفجر امامہ سے مراد یہ ہے کہ عنقریب توبہ کروں عنقریب عمل کروں گا لا وزر بمعنے لا حصن کوئی بچاؤ کی صورت نہیں ہے۔