Sahih Bukhari — Hadith 4569
Narrated by Jundub bin Sufyan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَائَتْ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَکُونَ شَيْطَانُکَ قَدْ تَرَکَکَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَکَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی
احمد بن یونس، زبیر، اسود بن قیس، جندب بن سفیان سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو دو یا تین رات (تہجد کے لئے) کھڑے نہیں ہوئے، ایک عورت آئی اور کہا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے امید ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا، میں نے اسکو تمہارے پاس دو یا تین راتوں سے آتے ہوئے نہیں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی) 93۔ الضحی) نازل فرمائی۔ آیت تم کو تمہارے رب نے نہیں چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے۔ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی، تشدید کے ساتھ اور بلا تشدید کے ایک ہی معنی میں ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ تم کو تمہارے رب نے نہیں چھوڑا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسکی تفسیریہ بیان کی کہ تم کو نہ چھوڑا نہ تم سے دشمنی۔
Narrated Jundub bin Sufyan: Once Allah's Apostle became sick and could not offer his night prayer (Tahajjud) for two or three nights. Then a lady (the wife of Abu Lahab) came and said, "O Muhammad! I think that your Satan has forsaken you, for I have not seen him with you for two or three nights!" On that Allah revealed: 'By the fore-noon, and by the night when it darkens, your Lord (O Muhammad) has neither forsaken you, nor hated you.' (93.1-3)