TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4589 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4589

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ وَرَهْطَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ يَا صَبَاحَاهْ فَقَالُوا مَنْ هَذَا فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْکَ کَذِبًا قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَکُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَکَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ وَقَدْ تَبَّ هَکَذَا قَرَأَهَا الْأَعْمَشُ يَوْمَئِذٍ

یوسف بن موسی، ابواسامہ، اعمش، عمرو بن مرہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب آیت وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے) اور ان میں سے خاص لوگوں کو ڈرایئے نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور کوہ صفا پر چڑھ کر یا صباحاہ! کہہ کر پکارنے لگے لوگوں نے کہا یہ کون ہے؟ اور آپ کے پاس جمع ہو گئے آپ نے فرمایا بتلاؤ! اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کے دامن سے نکلنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں تم سے جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں ابولہب نے کہا تبالک (تیری ہلاکت ہو) کیا تو نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا پھر وہ اٹھ کر چل دیا تو آیت (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ) 111۔لہب) نازل ہوئی اعمش نے اس دن اسی طرح پڑھا تھا۔

Narrated Ibn Abbas: When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred.' (26.214) was revealed. Allah's Apostle went out, and when he had ascended As-Safa mountain, he shouted, "O Sabahah!" The people said, "Who is that?" "Then they gathered around him, whereupon he said, "Do you see? If I inform you that cavalrymen are proceeding up the side of this mountain, will you believe me?" They said, "We have never heard you telling a lie." Then he said, "I am a plain warner to you of a coming severe punishment." Abu Lahab said, "May you perish! You gathered us only for this reason? " Then Abu Lahab went away. So the "Surat:--ul--LAHAB" 'Perish the hands of Abu Lahab!' (111.1) was revealed.

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت تبت یدا ابی لہب وتب! تباب بمعنے خسران اور تتیب بمعنے تدمیر (ہلاک کر دینا) ہے۔