Sahih Bukhari — Hadith 6718
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ لِي بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ لَهُ بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنْ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ وَأَنَّمَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرُدُّوهَا وَأَمَّا ابْنُکَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَاغْدُ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
ابوالیمان، شعیب، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک اعراب میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے واسطے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرما دیں پھر اس کا فریق کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے ٹھیک کہا ہے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور ہمیں عرض کرنے کی اجازت دیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو اس نے کہا کہ میرا ایک بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا لوگوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا چنانچہ سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر میں نے اس کو چھڑا لیا پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کی عورت پر رجم ہے اور میرے بیٹے کو سو درے لگیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن ہونا پڑے گا تو آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا لونڈی اور بکریاں واپس لے لو اور تمہارے بیٹے کو سو درے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا پڑے گا اور تم اے انیس اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرلے تو اس کو سنگسار کر دو چنانچہ انیس صبح کو اس کی بیوی کے پاس گیا اس نے اقرار کیا تو اس کو سنگسار کر دیا۔
Narrated Abu Huraira: While we were with Allah's Apostle a bedouin got up and said, "O Allah's Apostle! Settle my case according to Allah's Book (Laws)." Then his opponent got up and said, "O Allah's Apostle! He has said the truth! Settle his case according to Allah's Book (Laws.) and allow me to speak," He said, "My son was a laborer for this man and he committed illegal sexual intercourse with his wife. The people told me that my son should be stoned to death but I ransomed him with one-hundred sheep and a slave girl. Then I asked the religious learned people and they told me that his wife should be stoned to death and my son should receive one-hundred lashes and be sentenced to one year of exile.' The Prophet said, "By Him in Whose Hands my life is, I will judge between you according to Allah's Book (Laws): As for the slave girl and the sheep, they are to be returned; and as for your son, he shall receive one-hundred lashes and will be exiled for one year. You, O Unais!" addressing a man from Bani Aslam, "Go tomorrow morning to the wife of this (man) and if she confesses, then stone her to death." The next morning Unais went to the wife and she confessed, and he stoned her to death.