TrueHadith

Sahih Muslim, Hadith #1231615 · Statement on Virtues

Sahih MuslimHadith (internal ref #1231615)

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کُلُّهُمْ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَکْتُکُمْ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ مَا تُرِکْتُمْ فَإِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ثُمَّ ذَکَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ ابن نمیر، ابی اعمش، ابوصالح ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی ابن ابی عمر سفیان، ابوزناد اعرج ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، محمد بن زیاد ابوہریرہ محمد بن محمد بن زیاد ابوہریرہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سب سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس کام کو میں چھوڑ دوں تم بھی اس کو چھوڑ دو اور ہمام کی روایت میں ترکتم کا لفظ ہے مطلب یہ کہ جس معاملہ میں تمہیں چھوڑ دیا جائے پھر آگے روایت روایت میں زہری عن سعید اور ابوسلمہ عن ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی طرح ذکر کیا گیا ہے۔

This hadith has been narrated by Abu Huraira through a different chain of transmitters (and the words are) that he reported Allah's Messenger (may peace be upon him) having said: Abandon that which I have asked you to abandon, for the people before you went to their doom (for asking too many questions).

Permalink

See the full chapter: بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں