TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 102 · Explanation of Purification

Sunan Abu DawoodHadith 102

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُکَانَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَائَ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَائٌ حَتَّی وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيکَ کَيْفَ کَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَأَصْغَی الْإِنَائَ عَلَی يَدِهِ فَغَسَلَهَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَی فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَی الْأُخْرَی ثُمَّ غَسَلَ کَفَّيْهِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَائِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَائٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَی وَجْهِهِ ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ أَخَذَ بِکَفِّهِ الْيُمْنَی قَبْضَةً مِنْ مَائٍ فَصَبَّهَا عَلَی نَاصِيَتِهِ فَتَرَکَهَا تَسْتَنُّ عَلَی وَجْهِهِ ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَائٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَی رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفَتَلَهَا بِهَا ثُمَّ الْأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ قُلْتُ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ قُلْتُ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ قُلْتُ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ وَفِي النَّعْلَيْنِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ شَيْبَةَ يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لِأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُرَيْجٍ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ فِيهِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا

عبدالعزیز بن یحیی، محمد، ابن سلمہ، محمد، بن اسحاق ، محمد بن طلحہ بن یزید بن رکانہ، حضرت ابن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے جبکہ آپ پیشاب سے فارغ ہو کر تشریف لائے تھے آپ نے وضو کے لیے پانی مانگا چنانچہ ہم ایک برتن میں پانی لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا آپ نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ کیا میں تم کو نہ دکھاؤں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا ضرور تو حضرت علی رضی اللہ عنہ برتن جھکا کر اپنے (داہنے) ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسکو دھویا پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈال کر پانی لیا اور بائیں ہاتھ پر ڈال کر دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اس کے بعد دونوں ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے منہ پر ڈالا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر سامنے کے رخ پر پھیرا پھر دوسری مرتبہ ایسا ہی کیا پھر داہنے ہاتھ میں ایک چلو پانی لے کر پیشانی پر ڈالا اور اسکو چہرہ پر بہتا ہوا چھوڑ دیا پھر تین مرتبہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے پھر سر پر اور کانوں کی پشت پر مسح کیا پھر دونوں ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر پانی اپنے پاؤں پر مارا اس حال میں کہ وہ پاؤں میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس چلو کے پانی سے پاؤں رگڑ کر دھوئے ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا پاؤں دھونا آپ نے جوتا پہنے پہنے کیا تھا؟ فرمایا ہاں جوتا پہنے پہنے میں نے پھر پوچھا کیا جوتا پہنے پہنے؟ فرمایا ہاں جوتا پہنے پہنے میں نے مزید استفسار کیا کہ کیا جوتا پہنے پہنے؟ جواب ملا ہاں جوتا پہنے پہنی ابوداؤد کہتے ہیں کہ شیبہ سے ابن جریج کی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث سے مشابہ ہے جس میں حجاج ابن محمد نے ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ آپ نے سر کا مسح ایک مرتبہ کیا اور ابن وہب نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں) ابن جریج کے واسطہ سے تین مرتبہ مسح نقل کیا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وضو کی کیفیت کا بیان