TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1081 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 1081

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُمَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْمَعُکَ تَنْهَی عَنْ هَاتَيْنِ الرَّکْعَتَيْنِ وَأَرَاکَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَتْ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ

احمد بن صالح، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث بکیر بن اشج، کریب، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبدا لرحمن بن ازہر اور مسود بن محزمہ نے ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہماری طرف سے ان کو سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے بارے میں دریافت کرنا اور کہنا کہ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ یہ دو رکعت عصر کے بعد پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بات معلوم ہوئی تھی کے رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اس سے عصر کی نماز کے بعد نفل پڑھنے سے منع فرمایا تھا پس میں ام المؤمینین حضرت عائشہ کے پاس گیا اور ان کو لوگوں کا پیغام پہنچایا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اور یہ مسئلہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کرو اور وہ عبداللہ بن عباس وغیرہ کے پاس گیا اور حضرت عائشہ کے جواب اور مشورہ سے ان کو مطلع کیا پس پس ان سب حضرات نے مجھ کو اس پیغام کے ساتھ جو میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گیا تھا حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے سنا ہے آپ سے عصر کی نماز پڑھ میرے پاس تشریف لائے اس وقت انصار میں سے بنی حرام کی کئی عورتیں بیٹھی ہوئیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

-

Permalink

See the full chapter: عصر کے بعد نفل پڑھنے کا بیان