Sunan Abu Dawood — Hadith 1117
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ أَنَّ إِسْمَعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَبْلُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ قَالَ زِيَادٌ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا کَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَکَتْ بِهِ فَقَالَ حُلُّوهُ فَقَالَ لِيُصَلِّ أَحَدُکُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا کَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ
زیاد بن ایوب، ہارون، بن عباد، اسماعیل، بن ابراہیم، عبدالعزیزحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے بیچ میں ایک رسی بندھی ہوئی ہے پوچھا یہ رسی کیوں ہے؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رسی حمنہ بنت جحش کی ہے وہ جب نماز پڑھتے پڑھتے تھک جاتی ہیں تو اس رسی سے لٹک جاتی ہیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز اتنی ہی پڑھنی چاہیے جتنی طاقت ہو پس جب تھک جائے تو بیٹھ جائے، زیاد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ رسی زینب کی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں جب انکو کسل ہوتا ہے یا وہ تھک جاتی ہیں تو اسکو تھام لیتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسکو کھول دو تم میں سے ہر شخص اتنی ہی نماز پڑھے جس حد تک طبیعت میں آمادگی ہو جب اسکو سستی آئے یا وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے
-