TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1144 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 1144

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِأَبِيعَ عَقَارًا کَانَ لِي بِهَا فَأَشْتَرِيَ بِهِ السِّلَاحَ وَأَغْزُو فَلَقِيتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا قَدْ أَرَادَ نَفَرٌ مِنَّا سِتَّةٌ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِکَ فَنَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدُلُّکَ عَلَی أَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَتَيْتُهَا فَاسْتَتْبَعْتُ حَکِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَأَبَی فَنَاشَدْتُهُ فَانْطَلَقَ مَعِي فَاسْتَأْذَنَّا عَلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا قَالَ حَکِيمُ بْنُ أَفْلَحَ قَالَتْ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الَّذِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ الْقُرْآنَ قَالَ قُلْتُ حَدِّثِينِي عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قَالَ قُلْتُ بَلَی قَالَتْ فَإِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ السُّورَةِ نَزَلَتْ فَقَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَحُبِسَ خَاتِمَتُهَا فِي السَّمَائِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ نَزَلَ آخِرُهَا فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ قَالَ قُلْتُ حَدِّثِينِي عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ يُوتِرُ بِثَمَانِ رَکَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَکْعَةً أُخْرَی لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَالتَّاسِعَةِ وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْکَ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَکَعَاتٍ لَمْ يَجْلِسْ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي السَّابِعَةِ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْکَ هِيَ تِسْعُ رَکَعَاتٍ يَا بُنَيَّ وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا إِلَی الصَّبَاحِ وَلَمْ يَقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَطُّ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا وَکَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ مِنْ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ هَذَا وَاللَّهِ هُوَ الْحَدِيثُ وَلَوْ کُنْتُ أُکَلِّمُهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّی أُشَافِهَهَا بِهِ مُشَافَهَةً قَالَ قُلْتُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکَ لَا تُکَلِّمُهَا مَا حَدَّثْتُکَ

حفص بن عمر ہمام، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام، حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر میں اپنی زمین بیچنے کے لیے جو کہ مدینہ میں تھی بصرہ سے مدینہ آیا تاکہ میں اس کے ذریعہ ہتھیار خرید سکوں اور جہاد میں شرکت کروں پس چند اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میری ملاقات ہوئی اور انھوں نے مجھ سے بیان کیا ایک مرتبہ ہم چھ افراد نے بھی ایسا ہی کر نے کا ارادہ کیا تھا لیکن بنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا (یعنی جہاد میں شرکت کی غرض سے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی تھی تاکہ وہ ان کی طرف سے بے فکر ہو کر پوری یکسوئی سے جہاد میں شریک ہوں) اور فرمایا کہ تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ کار میں بہترین نمونہ عمل ہے۔ پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور ان سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کا پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ میں تم کو اس ہستی کا پتہ دیتا ہوں جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر سے پوری طرح واقف ہے لہذا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا (کیونکہ وہی سب سے زیادہ واقف حال ہیں) پس میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جانے کے لیے تیار ہو گیا اور حکیم بن افلح سے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو۔ انھوں نے انکار کیا لیکن میں نے انکو چلنے کے لیے قسم دی تو وہ میرے ساتھ گئے۔ پھر ہم دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر پہنچے اور ان سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ انھوں نے پوچھا یہ کون ہے؟ کہا حکیم بن افلح۔ پھر انھوں نے کہا پوچھا تیرے ساتھ دوسرا کون ہے؟ کہا سعد بن ہشام۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، کیا اس عامر کا بیٹا ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے کہا، جی، انھوں نے کہا کہ عامر کیا ہی خوب آدمی تھے۔ میں نے عرض کیا، ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق بیان فرمایئے، انھوں نے فرمایا، کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق قرآن کے مطابق تھے، میں نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تہجد کا حال بیان فرمایئے پوچھا، کیا تو نے سورت مزمل نہیں پڑھی؟ میں نے کہا کیوں نہیں ضرور پڑھی ہے۔ فرمایا جب اس صورت کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہونے لگے یہاں تک کہ (دیر دیر تک کھڑے رہنے کی بنا پر) ان کے پاؤں میں ورم آگیا۔ اور اس سورت کی آخری آیتیں بارہ مہینے تک آسمان پر رکی رہیں۔ پھر اس کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رات میں تہجد پڑھنا فرض نہ رہا بلکہ نفل ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کا حال بیان فرمایئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد کی آٹھ رکعیتں پڑھتے تھے اور آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھے تھے درمیان میں نہ بیٹھتے تھے، پھر کھڑے ہوتے اور ایک رکعت مزید پڑھتے اور صرف آٹھویں اور نویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور سلام نہ پھیرتے مگر نویں رکعت کے بعد۔ اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اس طرح کل گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں۔ اے بیٹے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضعیف ہو گئے اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی سات رکعتیں پڑھنے لگے چھٹی رکعت کے بعد بیٹھتے بیچ میں نہ بیٹھتے پھر ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور سلام نہ پھیرتے مگر ساتویں رکعت کے بعد پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے کل ملا کر نو رکعتیں ہوئیں اے بیٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی رات کو پوری رات صبح تک نہیں کھڑے ہوئے اور نہ ہی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں قرآن ختم کیا اور نہ ہی کسی مہینے میں پورے مہینے کے روزے رکھے سوائے ماہ رمضان کے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی نماز کو شروع کرتے تو ہمیشہ اس کو پڑھا کرتے اور اگر کسی دن رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نیند غالب ہوتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے (سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سن کر) میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا بخدا یہ ایسی حدیث ہے کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے میری بول چال ہوتی تو میں انہی کی زبان سے یہ حدیث سن لیتا میں نے کہا اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ تمھاری ان سے بات چیت نہیں ہوتی تو میں تم سے یہ حدیث بیان نہ کرتا۔

-

Permalink

See the full chapter: تہجد کی رکعتوں کا بیان