Sunan Abu Dawood — Hadith 1254
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَائَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ فَقَالَتْ وَمَا لَکُمْ وَصَلَاتَهُ کَانَ يُصَلِّي وَيَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی حَتَّی يُصْبِحَ وَنَعَتَتْ قِرَائَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَائَتَهُ حَرْفًا حَرْفًا
یزید بن خالد بن موہب، لیث، ابن ابی ملیکہ، حضرت یعلی بن مملک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات اور نماز کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہاں تمھاری نماز اور کہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا طریقہ یہ تھا کہ رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے اور پھر اتنی ہی دیر کے لیے سوجاتے جتنی دیر تک نماز پڑھی تھی پھر سونے کے بعد اتنی ہی دیر نماز میں مشغول رہتے جتنی دیر سوئے تھے اور یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کا حال بیان کیا تو کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کا ایک ایک حرف الگ الگ ہوتا تھا۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرات کے ہر حرف کو اچھی طرح سنا جاسکتا تھا)
-