TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1262 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 1262

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي عَلَی حَرْفٍ أَوْ حَرْفَيْنِ فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِي مَعِي قُلْ عَلَی حَرْفَيْنِ قُلْتُ عَلَی حَرْفَيْنِ فَقِيلَ لِي عَلَی حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِي مَعِي قُلْ عَلَی ثَلَاثَةٍ قُلْتُ عَلَی ثَلَاثَةٍ حَتَّی بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ ثُمَّ قَالَ لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ کَافٍ إِنْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا عَزِيزًا حَکِيمًا مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ

ابو ولید، ہمام بن یحیی، قتادہ یحیی بن یعمر، سلیمان بن صرد، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابی مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے پوچھا گیا قرآن ایک حرف (لہجہ) پر پڑھنا چاہتے ہو یا دو حرفوں پر؟ تو اس وقت جو فرشتہ قرآن پڑھانے کے لیے میرے پاس تھا اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ دیجیے کہ دو حرفوں پر میں نے عرض کیا کہ دو حرفوں پر اس کے بعد مجھ سے پوچھا گیا کہ دو حرفوں پر قرآن پڑھنا پسند ہے یا تین حرفوں پر؟ پھر اسی فرشتہ نے جو میرے پاس تھا کہا کہہ دیجیے تین حرفوں پر پس میں نے عرض کیا تین حرفوں پر اور پھر یہ سوال جواب کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ سات حرفوں پر پڑھنے اور اس کی اجازت پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ہر حرف (یعنی ہر لہجہ اور طریقہ) شافی اور کافی ہے لہذا تو چاہے تو سمیعاً علیماً پڑھ اور چاہے تو عزیزاً حکیماً (اس حد تک تو درست ہے مگر یہ درست نہیں کہ تو) عذاب کی آیت کو رحمت پر ختم کرے اور رحمت کی آیت کو عذاب کی آیت پر۔

-

Permalink

See the full chapter: قرآن مجید سات طرح پر نازل ہونے کا بیان