Sunan Abu Dawood — Hadith (internal ref #1310687)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَجِئْ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّهُمْ يَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَتَفَکَّرَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أَحْفَظُ إِلَّا أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ سُفْيَانُ قَدِمَ هَاهُنَا رَجُلٌ بَعْدَ مَا مَاتَ إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَطَلَبَ هَذَا الشَّيْخُ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّی وَجَدَهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَخَلَطَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ هَکَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت مُسَدَّدًا قَالَ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ الْخَطُّ بِالطُّولِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ هَکَذَا يَعْنِي بِالْعَرْضِ حَوْرًا دَوْرًا مِثْلَ الْهِلَالِ يَعْنِي مُنْعَطِفًا
محمد بن یحیی بن فارس، ابن مدینی، سفیان بن اسماعیل بن امیہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (اس کے بعد راوی نے) خط (یعنی لکیر کھینچنے) والی حدیث ذکر کی سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی ایسی دلیل نہیں پائی جس سے اس حدیث کو مضبوط کریں اور حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے علی ابن المدینی نے سفیان سے کہا کہ ابومحمد کے متعلق محدثین اختلاف کرتے ہیں تو انھوں نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا کہ مجھے تو ابومحمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص کوفہ میں آیا اور اس نے شیخ ابومحمد کو تلاش کیا وہ اسے مل گئے اس نے ان سے سوال کیا تو ان پر خلط ہو گیا ابوداؤد کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد ابن حنبل سے متعدد مرتبہ خط کی یہ کیفیت سنی ہے کہ وہ عرضا ہونی چاہیے اور حلال کی طرح ہونی چاہیے ابوداؤد کہتے ہیں کہ میں نے مسدد سے سنا ہے انھوں نے ابن داؤد کے حوالہ سے ذکر کیا ہے کہ خط لمبائی میں کھینچنا چاہیے۔
-