TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1386 · Book on Zakat

Sunan Abu DawoodHadith 1386

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْکُلُهُ فَجَعَلُوا يَذْکُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيکَ فَتَوَلَّی الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّکَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْکُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلِقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ أَوْ کَمَا قَالَ حَتَّی أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَبُو دَاوُد هَکَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ کَمَا قَالَ مَالِکٌ

عبداللہ بن مسلمہ، مالک، زید، بن اسلم، عطاء بن یسار، قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں اور میرے اہل خانہ بقیع عرقد میں جا کر اترے میری بیوی نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے اپنی ناداری اور غریبی بیان کر کے کھانے کے لیے کچھ لے آؤ۔ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگ رہا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسکے جواب میں فرما رہے تھے کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تجھے دوں آخر کار وہ شخص غصہ میں اٹھ کر چلا گیا جارہا تھا کہ میری زندگی کی قسم تم جسکو چاہتے ہو دیتے ہو، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ شخص مجھ پر اس بنا پر غصہ ہو رہا ہے کہ میرے پاس اسکو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) جس کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) یا اسکے مساوی مال ہو اور وہ اسکے باوجود سوال کرے تو اس نے پریشان کرنے کے لیے سوال کیا یہ سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے پاس ایک اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے اور ایک اوقیہ تو چالیس درہم کا ہی ہوتا ہے یہ سوچ کر میں لوٹ کر چلا آیا اور کچھ سوال نہیں کیا۔ اسکے بعد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو اور کشمش آئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسمیں ہمارا حصہ بھی لگایا یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح مالک نے کیا۔

-

Permalink

See the full chapter: مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین