TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1397 · Book on Zakat

Sunan Abu DawoodHadith 1397

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي کِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّی تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِهَا ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّی يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِکُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّی يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَی مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا الْفَاقَةُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِکُ وَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْکُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا

مسدد، حماد، زید، ہارون بن ریاب، کنانہ بن نعیم حضرت قبیصہ بن مخارق ہلا لی سے روایت ہے کہ میں ایک قرضہ کا ضامن ہوا پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (سوال کر نے کی غر ض) سے حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے قبیصہ انتظار کرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آئے تو ہم تم کو اس میں سے دے دیں گے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا اے قبیصہ تین طرح کے لوگوں کے علاوہ کسی کے لیے سوال کرنا درست نہیں ایک وہ شخص جس پر ضمانت کا بوجھ ہو (اور ادا کر نے سے قاصر ہو) جب تک ضمانت سے چھٹکارہ نہ پا لے۔ اس کے بعد باز رہنا چاہیئے۔ دوسرا وہ شخص جس کو ایسی مصیبت پیش آئے جس میں اس کا مال تباہ ہو گیا ہو تو اس کے لیے سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ وہ ایسا سرمایا حاصل کرے جو اس کے گزر بسر کے لائق ہو۔ تیسرے وہ شخص جس کو کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے جس کے متعلق اس کی قوم کے کم از کم تین ذمہ دار افراد یہ کہنے لگیں کہ واقعی وہ مصیبت میں مبتلا ہے اس کے لیے بھی سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ گزر بسر کے لائق پیدا کر لے پھر سوال کر نے سے باز رہے اے قبیصہ ان صورتوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے جو شخص سوال کر کے کھائے وہ حرام کھاتا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: سوال کرنا کب جائز ہے؟