Sunan Abu Dawood — Hadith 1414
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ صَاحِبِ کَنْزٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَی عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُکْوَی بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّی يَقْضِيَ اللَّهُ تَعَالَی بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا کَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَائُ وَلَا جَلْحَائُ کُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا کَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا کُلَّمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ تَعَالَی بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ
موسی بن اسماعیل، حماد، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس مال ہے اور وہ پھر بھی اسکی زکوة نہیں دیتا تو قیامت کے دن اسی مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اسکی پیشانی، پسلی، اور پیٹھ کو داغا جائے گا یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے اس دن جو تمہارے اس دنیاوی حساب سے پچاس ہزار برس کا ہوگا اس کے بعد اسکو اپنی راہ معلوم ہوگی جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف اسی طرح جو بکریوں والا انکی زکوة نہ دے گا تو قیامت کے روز وہ شخص ان بکریوں کے سامنے ایک صاف چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا اور وہ بکریاں اسکو سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی اور ان بکریوں میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی یا بے سینگ کی نہ ہو گی۔ جب ایک مرتبہ یہ بکریاں مار چکیں گی تب پھر دوبارہ سے پہلی والی بکری آئے گی (اور مارنا شروع کرے گی) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا جو تمہارے حساب سے پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا اس کے بعد اسکو اپنی راہ معلوم ہوگی کہ جنت کی طرف ہے یا دوزخ کی طرف اسی طرح جو اونٹ والا اپنے اونٹوں کی زکوة نہ دے گا قیامت کے دن وہ اونٹ لائے جائیں گے اور انکے مالک کو میدان میں بٹھا دیا جائے گا اور وہ اونٹ اسکو اپنے پیروں سے روندیں گے جب ایک گذر جائے گا تو دوسرا آجائے گا (اور اسکو روندے گا) اور پھر پہلا والا آجائے گا (اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اپنے بندوں کے درمیان اس دن جو پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا اسکے بعد اسکو اپنی راہ معلوم ہوگی کہ جنت کی طرف ہے یا دوزخ کی طرف۔
-