Sunan Abu Dawood — Hadith 1540
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَأَهْدَی وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَکَانَ مِنْ النَّاسِ مَنْ أَهْدَی وَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ أَهْدَی فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهُ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مِنْکُمْ أَهْدَی فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَکَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ أَوَّلَ شَيْئٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ السَّبْعِ وَمَشَی أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَکَعَ حِينَ قَضَی طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَی الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يُحْلِلْ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی قَضَی حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ النَّاسُ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَی وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنْ النَّاسِ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، ابن شہاب، سالم بن عبد اللہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجة الوداع میں تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے حج کیا اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے کر گئے تھے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے عمرہ کو پکارا پھر حج کو (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے لبیک بعمرہ کہا اور پھر لبیک بحجة) اور لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا یعنی تمتع کیا مگر بعض لوگ ہدی لے گئے تھے اور بعض نہیں لے گئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا تم میں سے جو شخص ہدی ساتھ لایا ہو اسکے لیے کوئی چیز حلال نہیں ہے بلکہ حرام ہے جب تک کہ حج پورا نہ کرے اور جو ہدی ساتھ نہ لایا ہو تو وہ طواف و سعی کر کے بال کتروائے اور احرام کھول ڈالے اور اسکے بعد حج کا احرام باندھے اور ہدی دے اگر اسکے ساتھ ہدی نہ ہو تو تین روزے حج میں رکھے اور سات روزے اپنے گھر واپس جا کر رکھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کو چوما پھر تین مرتبہ دوڑ کر اور تن کر بیت اللہ کا طواف کیا اور چار مرتبہ معمولی رفتار سے چل کر طواف کیا جب طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس جا کر دو رکعت نماز پڑھی اور سلام پھیرا نماز سے فارغ ہو کر کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگائے اور حج کے پورا ہونے تک احرام نہیں کھولا اور یوم النحر میں (دس تاریخ کو) ہدی کی قربانی کی اور مکہ میں آکر طواف کیا (طواف الزیارة) اسکے بعد احرام کھول دیا اور وہ سب کام کرنے لگے جو حالت احرام میں ممنوع تھے اور جن لوگوں کے ساتھ ہدی تھی انہوں نے بھی ایسا ہی کیا جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔
-