Sunan Abu Dawood — Hadith 1609
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِکَ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَمَا کَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّی يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَی أَنْ يَجِيئُوا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَکَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِکُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ قُلْتُ يَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَی بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِکَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَمَا کَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَی بَعِيرِهِ وَکَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ کَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ فَطَافَ عَلَی بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا کَلَامَهُ وَلِيَرَوْا مَکَانَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ
ابوسلمہ، موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ابوعاصم، ابوطفیل سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس سے کہا کہ تمھارے لوگ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت رمل کیا اور یہ کہ یہ سنت ہے انھوں نے کہا کہ ایک بات صحیح ہے اور ایک بات غلط میں نے پوچھا کہ کونسی بات صیحح ہے اور کونسی بات غلط؟ اس پر ابن عباس نے کہا کہ یہ بات تو درست ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا ہے لیکن یہ غلط ہے کہ یہ سنت ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں قریش مکہ نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکے ساتھیوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو یہ تو خود ہی اپنی موت مر جائیں گے جب مسلمانوں کی قریش مکہ سے اس شرط پر صلح ہوگئی کہ وہ آئندہ سال آئیں گے اور تین دن تک مکہ میں رہیں گے پس (اگلے سال) رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ تشریف لائے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے۔ (قعیقان ایک پہاڑ کا نام ہے) تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا تین پھیروں میں رمل کرو (سپاہیانہ شان سے اکڑ کر چلو) مگر یہ سنت نہیں ہے۔ (ابوطفیل کہتے ہیں کہ) میں نے پھر کہا کہ تمھارے لوگ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ہے اور یہ سنت ہے۔ انھوں نے کہا۔ انھوں نے ایک بات صیح کی اور ایک بات غلط۔ میں نے پوچھا صیح بات کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ انھوں نے کہا یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا ومروہ کے درمیان اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے لیکن یہ غلط ہے کہ یہ فعل سنت ہے کیونکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جاتے نہ تھے اور ہٹتے نہ تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھیں اور لوگوں کے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نہ جا سکیں۔
-