TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1728 · Statement on Hajj Rites

Sunan Abu DawoodHadith 1728

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ أَبُخْلٌ بِهِمْ أَمْ حَاجَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلَکِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَدَفَعَ فَضْلَهُ إِلَی أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ کَذَلِکَ فَافْعَلُوا فَنَحْنُ هَکَذَا لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو بن عون، خالد، حمید، بکر بن عبداللہ حضرت بکر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا حال ہے اس گھر کے لوگوں کا (تمہارے گھر کے لوگوں کا؟) کہ یہ نبیذ (کھجور کا شربت) پلاتے ہیں جبکہ انکے چچا کے بیٹے (قریش) دودھ شہد ستو پلاتے ہیں۔ یہ لوگ بخیل ہیں یا نادار؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا نہ ہم بخیل ہیں نہ نادار (بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ) رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کے لیے کوئی چیز طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے نبیذ پیش کی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے پیا اور جو باقی بچا وہ اسامہ کو دیا پس انہوں نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کام تم نے بہت اچھا کیا اور آئندہ بھی کرتے رہنا یہ ہے وہ وجہ جسکی بنا پر ہم ایسا کرتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ہم اس چیز کو بدل لیں جسکی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحسین فرمائی تھی۔

-

Permalink

See the full chapter: نبیذ کی سبیل لگانے کا بیان