Sunan Abu Dawood — Hadith 2315
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَأَخَذَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفِدَائَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَکُونَ لَهُ أَسْرَی حَتَّی يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِلَی قَوْلِهِ لَمَسَّکُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ مِنْ الْفِدَائِ ثُمَّ أَحَلَّ لَهُمْ اللَّهُ الْغَنَائِمَ قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنْ اسْمِ أَبِي نُوحٍ فَقَالَ إِيشْ تَصْنَعُ بِاسْمِهِ اسْمُهُ اسْمٌ شَنِيعٌ قَالَ أَبُو دَاوُد اسْمُ أَبِي نُوحٍ قُرَادٌ وَالصَّحِيحُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ
احمد بن حنبل، ابونوح، عکرمہ بن عمار، سماک، حضرت عمربن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ بدر کے موقعہ پر قیدیوں سے روپیہ پیسہ لے کر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس کے قبضہ میں قیدی ہوں اور وہ انکو چھوڑ دے یہاں تک کہ قتل یا زیر نہ کر لے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے غنیمت کو حلال کیا ابوداؤد کہتے ہیں کہ میں نے سنا امام احمد بن حنبل سے ابونوح کا نام معلوم کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ان کا نام معلوم کر کے کیا کرو گے ان کا نام غیر مناسب سا ہے۔ ابوداؤد نے کہا ان کا نام قراد ہے (یعنی چیچڑی) اور صحیح عبدالرحمن بن غزوان ہے
-