Sunan Abu Dawood — Hadith 2348
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَی الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ وَسَأَلَهُ إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَحَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ الْقُرَشِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَهَا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُسْهِمَ لِي فَتَکَلَّمَ بَعْضُ وُلْدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ يَا عَجَبًا لِوَبْرٍ قَدْ تَدَلَّی عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَالٍ يُعَيِّرُنِي بِقَتْلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَکْرَمَهُ اللَّهُ تَعَالَی عَلَی يَدَيَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَی يَدَيْهِ َ
حامد بن یحیی، سفیان، اسماعیل بن امیہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں تھے جب آپ نے اس کو فتح کیا تھا میں نے آپ سے کہا میرا حصہ بھی دیجئے تو سعید بن عاص کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا کہ ہم اس کو ہرگز حصہ نہ دیں گے میں نے کہا ابن قوقل کا یہی قاتل ہے۔ سعید نے کہا تعجب ہے ایک وبر پر جو ضال کی چوٹی سے اتر کر ہمارے پاس آیا ہے جو مجھے ایک مسلمان کے قتل پر دھمکاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے ہاتھ پر عزت دی اور مجھ کو اس کے ہاتھوں ذلیل نہ کیا۔
-