Sunan Abu Dawood — Hadith 2372
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَی إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَ رَاعِيَهَا فَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَا صَبَاحَاهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ فَجَعَلْتُ أَرْمِي وَأَعْقِرُهُمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جَعَلْتُهُ وَرَائَ ظَهْرِي وَحَتَّی أَلْقَوْا أَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا ثُمَّ أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ مَدَدًا فَقَالَ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْکُمْ فَقَامَ إِلَيَّ أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ قُلْتُ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْکُمْ فَيُدْرِکُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي فَمَا بَرِحْتُ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَی فَرَسِ الْأَخْرَمِ فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَی فَرَسِ الْأَخْرَمِ ثُمَّ جِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمَائِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُو قَرَدٍ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلاللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ فَأَعْطَانِي سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ
ہارون بن عبد اللہ، ہاشم بن قاسم، عکرمہ، ایاس بن سلمہ، حضرت سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹا ان کے چرواہے کو مار ڈالا اور وہ اور اس کے گھوڑ سوار ساتھی اونٹوں کو ہانکتے ہوئے لے گئے تو میں نے اپنا منہ مدینہ کی طرف کر کے زور سے پکارا! تین مرتبہ یاصباحاہ! (یعنی لوگوں کو لوٹ کی خبر دی) اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا اور میں انکو تیر مار مار کر زخمی کرتا جاتا تھا۔ جب انمیں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی آڑ میں چھپ جاتا یہاں تک کہ آپ کے جتنے اونٹ تھے سب کو میں نے پیچھے کر لیا اور انھوں نے اپنے تیس بھالوں اور تیس چادروں سے زیادہ پھینک دیں تاکہ وزن کم ہو جائے (اور بھاگنے میں آسانی ہو) اتنے میں (عبدالرحمن کا باپ) عیینہ مدد کے لیے آ پہنچا اور اسنے کہا تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف جائیں (یعنی سلمہ بن اکوع کی طرف اور اس کو قتل کر ڈالیں) سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھے جب وہ اتنے فاصلہ پر آگئے کہ میری آواز ان تک پہنچ سکے تو میں نے کہا کیا تم مجھ کو پہچانتے ہو؟ انھوں نے پوچھا تو کون ہے؟ میں نے کہا میں اکوع کا بیٹا ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت وسرفرازی بخشی ہے۔ اگر تم میں سے کوئی مجھے پکڑنا چاہے گا تو پکڑ نہیں سکے گا اور جس کو میں پکڑنا چاہوں گا وہ بچ کر نہ جا سکے گا۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوار درختوں میں سے ہو کر چلے آرہے ہیں اور انمیں سے سب سے آگے اخرم اسدی تھے وہ (لٹیروں کے سردار) عبدالرحمن بن عیینہ تک پہنچ گئے عبدالرحمن کے گھوڑے کو مار ڈالا اور عبدالرحمن نے اخرم کو قتل کر ڈالا۔ اور وہ انکے گھوڑے پر سوار ہو گیا اسکے بعد ابن قتادہ نے عبدالرحمن کو جالیا اور لڑائی شروع ہوگئی۔ اور اس لڑائی میں ابوقتادہ کا گھوڑا مارا گیا اور ابوقتادہ نے عبدالرحمن کو قتل کر ڈالا پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ اس پانی پر تھے جس کا نام ذوقرد تھا اور جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگا دیا تھا اس وقت آپ پانچ سو افراد کے مجمع میں تھے پس آپ نے مجھے ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ دیا۔
-