Sunan Abu Dawood — Hadith 2532
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُکُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ کَانَ الرَّجُلُ يُحَالِفُ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا نَسَبٌ فَيَرِثُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَنَسَخَ ذَلِکَ الْأَنْفَالُ فَقَالَ تَعَالَی وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ
احمد بن محمد، علی بن حسین، ان کے والد، یزید نحوی، عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے) جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دو۔ پہلے زمانہ میں (اسلام کے ابتدائی دور میں) یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص ایسے شخص سے قسم کھا لیتا جس سے اس کی قرابت داری نہ ہوتی تو وہ اس قسم کی بنا پر ایک دوسرے کے وارث قرار پاتے پھر بعد میں سورت انفال کی اس آیت ( وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ) 33۔ الاحزاب : 6) سے یہ دستور منسوخ ہو گیا۔ (اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرابت والے ایک دوسرے کے مال کے حقدار ہیں)
-