TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2579 · Initial Discussion on Spoils of War and Leadership

Sunan Abu DawoodHadith 2579

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِکَابٍ قَالَ صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ فَدَکَ وَقُرًی قَدْ سَمَّاهَا لَا أَحْفَظُهَا وَهُوَ مُحَاصِرٌ قَوْمًا آخَرِينَ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ بِالصُّلْحِ قَالَ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِکَابٍ يَقُولُ بِغَيْرِ قِتَالٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَکَانَتْ بَنُو النَّضِيرِ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا لَمْ يَفْتَحُوهَا عَنْوَةً افْتَتَحُوهَا عَلَی صُلْحٍ فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا رَجُلَيْنِ کَانَتْ بِهِمَا حَاجَةٌ

محمد بن عبید ابن ثور، معمر، حضرت زہری سے روایت ہے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم نے ان مالوں کے حصول میں اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے (یعنی جنگ کے بغیر حاصل کیے اس کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک اور گاؤں والوں سے صلح کی اس حال میں کہ آپ ایک قوم کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے شیخ نے اس گاؤں کا نام لیا تھا لیکن مجھے یاد نہیں رہا۔ ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ۔ ان مالوں پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے یہ مال ہاتھ آیا۔ زہری کہتے ہیں کہ بنونضیر کے اموال بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خاص تھے کیونکہ مسلمانوں نے اس کو بزور بازو حاصل نہ کیا تھا بلکہ صلح کر کے حاصل کیا تھا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مال کو مہاجرین میں تقسیم فرمایا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہ دیا سوائے ان دو شخصوں کے جو ضرورت مند تھے۔

-

Permalink

See the full chapter: ان مالوں کا بیان جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال غنیمت میں سے اپنے لیے چن لیتے تھے