Sunan Abu Dawood — Hadith 2646
Narrated by Umar ibn al-Khattab
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ بَجَالَةَ يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ وَأَبَا الشَّعْثَائِ قَالَ کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزْئِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ إِذْ جَائَنَا کِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ اقْتُلُوا کُلَّ سَاحِرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَ کُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَانْهَوْهُمْ عَنْ الزَّمْزَمَةِ فَقَتَلْنَا فِي يَوْمٍ ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ وَفَرَّقْنَا بَيْنَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَحَرِيمِهِ فِي کِتَابِ اللَّهِ وَصَنَعَ طَعَامًا کَثِيرًا فَدَعَاهُمْ فَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَی فَخْذِهِ فَأَکَلُوا وَلَمْ يُزَمْزِمُوا وَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ الْوَرِقِ وَلَمْ يَکُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ حَتَّی شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ
مسدد بن مسرہد، سفیان، عمرو بن دینار، حضرت عمرو بن اوس اور ابوالشعثاء سے روایت ہے کہ بجالہ کا بیان ہے کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی تھا۔ ایک مرتبہ ہمارے پاس حضرت عمر کا ایک خط انکی وفات سے ایک سال قبل آیا جس میں یہ لکھا تھا کہ مار ڈالو ہر جادوگر کو اور مجوسیوں کے محارم میں جدائی کر دو (وہ محارم میں شادی کر لیتے ہیں) اور منع کر دو ان کو گنگنانے سے (یہ لوگ کھانے کے بعد گنگناتے ہیں۔ تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگروں کو قتل کیا اور جس مجوسی کے نکاح میں اس کی محرم عورت تھی اسمیں تفریق کر دی اور احمد بن قیس نے بہت سا کھانا پکوایا پھر پارسیوں کو بلا بھیجا اور تلوار کو اپنی ران پر رکھا انھوں نے کھایا لیکن گنگنایا نہیں اور انھوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی پیش کیا اور حضرت عمر نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجر پارسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ (ہجر ایک گاؤں کا نام ہے۔ )
Narrated Umar ibn al-Khattab: Amr ibn Aws and AbulSha'tha' reported that Bujalah said: I was secretary to Jaz' ibn Mu'awiyah, the uncle of Ahnaf ibn Qays. A letter came to us from Umar one year before his death, saying: Kill every magician, separate the relatives of prohibited degrees from the Magians, and forbid them to murmur (before eating). So we killed three magicians in one day, and separated from a Magian husband his wife of a prohibited degree according to the Book of Allah. He prepared abundant food and called them, and placed the sword on his thigh. They ate (the food) but did not murmur. They threw (on the ground) one or two mule-loads of silver. Umar did not take jizyah from Magians until AbdurRahman ibn Awf witnessed that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) had taken jizyah from the Magians of Hajar.