TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 274 · Explanation of Purification

Sunan Abu DawoodHadith 274

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَی فَقَالَ أَبُو مُوسَی يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ الْمَائَ شَهْرًا أَمَا کَانَ يَتَيَمَّمُ فَقَالَ لَا وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَائَ شَهْرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَی فَکَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَکُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمْ الْمَائُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَی وَإِنَّمَا کَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَی أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدَ الْمَائَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ کَمَا تَتَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيکَ أَنْ تَصْنَعَ هَکَذَا فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَی الْأَرْضِ فَنَفَضَهَا ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَی يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَی شِمَالِهِ عَلَی الْکَفَّيْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ

محمد بن سلیمان، ابومعاویہ، اعمش، حضرت شقیق رضی اللہ عنہ سے ورایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن (یہ ابن مسعود کی کنیت ہے) اگر کسی کو غسل کی ضرورت ہو جائے اور ایک ماہ تک اسکو پانی نہ ملے تو کیا وہ تیمم کر سکتا ہے؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں اگرچہ اسکو ایک ماہ تک پانی نہ ملے تب بھی وہ تیمم نہ کرے اس پر ابوموسی اشعری نے کہا تو پھر آپ کا سورت مائدہ کی ایک آیت کے متعلق کیا خیال ہے؟ ( فَلَمْ تَجِدُوْا مَا ءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا ) 4۔ النساء : 43) سورت مائدہ (پس اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو) عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ اگر لوگوں کو تیمم کی رخصت دے دی جائے تو معمولی ٹھنڈ ہونے پر بھی وہ تیمم کرنے لگیں۔ ابوموسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے محض اسی لیے تیمم سے منع کیا ہے؟ فرمایا ہاں ابوموسی نے کہا کہ کیا تم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک کام کی غرض سے روانہ کیا راستہ میں مجھے جنابت لاحق ہوگئی اور جب مجھے پانی نہ ملا تو میں نے جانور کی طرح مٹی پر لوٹ لگائی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تجھے اس طرح کرنا کافی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور مٹی پھونک مار کر جھاڑ دی پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر پھیرا اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر پھیرا پہنچو تک پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ پر مسح کیا عبداللہ بن مسعود نے جواب دیا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں عمار کے قول پر قناعت نہیں کی۔

-

Permalink

See the full chapter: تیمم کا بیان