TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 282 · Explanation of Purification

Sunan Abu DawoodHadith 282

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَهَمَّنِي دِينِي فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ فَقَالَ لِي اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ وَأَشُکُّ فِي أَبْوَالِهَا هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ فَکُنْتُ أَعْزُبُ عَنْ الْمَائِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ فَقُلْتُ نَعَمْ هَلَکْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمَا أَهْلَکَکَ قُلْتُ إِنِّي کُنْتُ أَعْزُبُ عَنْ الْمَائِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَائٍ فَجَائَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَائُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَی بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ الْمَائَ إِلَی عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَکَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ لَمْ يَذْکُرْ أَبْوَالَهَا قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ

موسی بن اسماعیل، حماد، ایوب، حضرت ابوقلابہ رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک شخص کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس کا بیان ہے کہ میں مسلمان ہوا تو مجھے دینی امور سیکھنے کا شوق ہوا چنانچہ میں ابوذر کے پاس آیا انہوں نے (اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا کہ مجھے مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اونٹوں اور بکریوں کے دودھ پینے کا حکم دیا حماد کہتے ہیں کہ مجھے شک ہے کہ ابوذر نے شاید یہ بھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے انکے پیشاب پینے کا حکم دیا حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ میں پانی (والے علاقہ) سے دور رہتا تھا اور میرے ساتھ میرے اہل خانہ بھی تھے چنانچہ جب مجھے غسل کی ضرورت ہوتی تو میں پاکی کے بغیر ہی نماز پڑھ لیتا تھا پس جب میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت چند اصحاب کے ساتھ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوذر میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے کہا میں تو تباہ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں، کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پانی والے علاقہ سے دور تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی جب مجھے غسل کی ضرورت ہوتی تو میں پاکی کے بغیر ہی نماز پڑھ لیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا چنانچہ ایک سیاہ فام باندی ایک بڑے پیالہ میں پانی لے کر آئی جو ہل رہا تھا کیونکہ وہ بھرا ہوا نہ تھا میں نے ایک اونٹ کی آڑ میں (بیٹھ کر) غسل کیا اور غسل سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر پاک مٹی ذریعہ طہارت ہے اگرچہ تو دس سال تک پانی نہ پائے اور جب پانی ملے تو بدن پر پانی بہالے ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو حماد نے ایوب سے روایت کیا ہے اس میں لفظ، ابوالہا، ذکر نہیں کیا اور لفظ، ابوالہا، اس حدیث میں صحیح نہیں اسکی بابت صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور اسکی روایت میں تمام راوی بصری ہیں۔

-

Permalink

See the full chapter: جنبی تیمم کر سکتا ہے