TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2951 · Explanation of Buying and Selling

Sunan Abu DawoodHadith 2951

Narrated by Rafi' ibn Khadij

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ وَرَجُلٌ اسْتَکْرَی أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍقَالَ أَبُو دَاوُد قَرَأْتُ عَلَی سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَکُمْ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَائَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ فَقَالَ أَکْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ

مسدد، ابواحوص، طارق بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ زراعت کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کسی آدمی کی زمین ہے اور وہ اس میں زراعت کرتا ہے، دوسرے یہ کہ کسی نے زمین عاریة لی ہو او اس مستعار زمین میں وہ زراعت کرے۔ تیسرے یہ کہ کوئی آدمی سونے یا چاندی کے بدلہ میں زمین کرائے پر لے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سعید بن یعقوب الطالقانی کے سامنے پڑھی اور ان سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن المبارک نے آپ سے یہ حدیث سعید بن ابی شجاع کے واسطہ سے بیان کی اور وہ کہتے ہیں مجھ سے عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج نے یہ حدیث بیان کی اور یہ کہ میں یتیم تھا اور حضرت رافع بن خدیج کی سرپرستی میں تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو ان کے پاس میرے بھائی عمران بن سہل آئے اور ان سے کہا کہ ہم نے اپنی زمین کرائے پر دی ہے فلاں عورت کو دو سو درہم کے عرض میں تو حضرت رافع نے فرمایا کہ اس معاملہ کو چھوڑ دو اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Rafi' ibn Khadij: AbuJa'far al-Khatmi said: My uncle sent me and his slave to Sa'id ibn al-Musayyab. We said to him, there is something which has reached us about sharecropping. He replied: Ibn Umar did not see any harm in it until a tradition reached him from Rafi' ibn Khadij. He then came to him and Rafi' told him that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) came to Banu Harithah and saw crop in the land of Zuhayr. He said: What an excellent crop of Zuhayr is! They said: It does not belong to Zuhayr. He asked: Is this not the land of Zuhayr? They said: Yes, but the crop belongs to so-and-so. He said: Take your crop and give him the wages. Rafi' said: We took our crop and gave him the wages. Sa'id (ibn al-Musayyab) said: Lend your brother or employ him for dirhams.

Permalink

See the full chapter: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان