TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 299 · Explanation of Purification

Sunan Abu DawoodHadith 299

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَةَ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَائُوا فَقَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَرَی الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا قَالَ لَا وَلَکِنَّهُ أَطْهَرُ وَخَيْرٌ لِمَنْ اغْتَسَلَ وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ وَسَأُخْبِرُکُمْ کَيْفَ بَدْئُ الْغُسْلِ کَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَی ظُهُورِهِمْ وَکَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِکَ الصُّوفِ حَتَّی ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَی بِذَلِکَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الرِّيحَ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا کَانَ هَذَا الْيَوْمَ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُکُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ جَائَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ وَکُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمْ وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي کَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنْ الْعَرَقِ

عبداللہ بن مسلمہ، عبدالعزیز، ابن محمد، عمرو بن ابی عمرو، عکرمہ، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ عراق کے رہنے والے لوگ آئے اور پوچھا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہ کیا آپ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب سمجھتے ہیں انہوں نے کہا نہیں لیکن یہ بہتر ہے کہ جو شخص غسل کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور جو غسل نہ کرے تو یہ اسکے لیے واجب نہیں ہے اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ غسل کا حکم کس وجہ سے ہوا تھا لوگ غریب تھے اور اونی کپڑے پہنتے تھے اپنی پیٹھوں پر بوجھ لادتے تھے مسجد بھی تنگ تھی اور اسکی چھت بھی نیچی تھی وہ تو محض کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھا ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کے دن مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو انکے اونی لباس میں پسینہ آرہا تھا اور بدبو پھیل رہی تھی اور ایک دوسرے کو بدبو کی وجہ سے تکلیف ہو رہی تھی جب یہ بدبو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب یہ دن ہوا کرے (یعنی جمعہ کا دن ہو) تو نہا لیا کرو اور جو اچھی سے اچھی خوشبو اور تیل میسر ہو وہ لگایا کرو ابن عباس کہتے ہیں کہ پھر لوگوں کے حالات بہتر ہو گئے اور اونی کپڑوں کے علاوہ دوسرے کپڑے پہننے لگے اور محنت و مشقت ہٹ گئی (یعنی غلاموں اور ملازموں سے کام لینے لگے) اور مسجد بھی کشادہ ہوگئی اور وہ جو پسینہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوتی تھی وہ بھی جاتی رہی۔

-

Permalink

See the full chapter: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی اجازت