TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 3093 · Explanation of Buying and Selling

Sunan Abu DawoodHadith 3093

Narrated by Some people

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَکَ مِنْ سِلَاحٍ قَالَ عَوَرً أَمْ غَصْبًا قَالَ لَا بَلْ عَوَرً فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَی الْأَرْبَعِينَ دِرْعًا وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِکُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ فَفَقَدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِکَ أَدْرَاعًا فَهَلْ نَغْرَمُ لَکَ قَالَ لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَکُنْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَبُو دَاوُد وَکَانَ أَعَارَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ثُمَّ أَسْلَمَ

ابو بکر بن ابی شیبہ، جریر، عبدالعزیز بن رفیع، اناس، عبداللہ بن صفوان، آل صفوان کے بعض لوگوں سے عبدالعزیز بن رفیع روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفوان سے فرمایا کہ اے صفوان کیا تمہارے پاس کچھ اسلحہ ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ عاریة چاہیے یا غصبا وصول کر رہے ہو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ عاریة۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ حنین میں جنگ فرمائی جب مشرکین کو ہزیمت ہوئی تو صفوان کی زرہوں کو جمع کیا گیا تو ان میں کچھ زرہیں گم ہو گئیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفوان سے فرمایا کہ ہم نے بیشک تمہاری زرہوں میں سے چند زرہیں گم کر دی ہیں تو کیا ہم تمہیں اس کی ضمان ادا کر دیں؟ وہ کہنے لگی کہ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لیے کہ آج میرے دل میں وہ بات نہیں ہے جو اس روز تھی۔

Narrated Some people: AbdulAziz ibn Rufay' narrated on the authority of some people from the descendants of Abdullah ibn Safwan who reported the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) as saying: Have you weapons, Safwan? He asked: On loan or by force? He replied: No, but on loan. So he lent him coats of mail numbering between thirty and forty! The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) fought the battle of Hunayn. When the polytheists were defeated, the coats of mail of Safwan were collected. Some of them were lost. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said to Safwan: We have lost some coats of mail from your coats of mail. Should we pay compensation to you? He replied: No. Apostle of Allah, for I have in my heart today what I did not have that day.

Permalink

See the full chapter: مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں