Sunan Abu Dawood — Hadith 356
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَکَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَائِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْئٌ شَغَلَهُ أَمْ غَيْرُ ذَلِکَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ أَتَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَی أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، حکم، نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشاء کی نماز کے لیے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں بیٹھے رہے پس جب تہائی رات یا اس سے کچھ زائد رات بیت گئی تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تاخیر کسی کام میں مشغولیت کی بنا پر کی یا کسی اور وجہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجرہ سے باہر) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ہی اس نماز کا انتظار کرتے ہو (پھر فرمایا) اگر مجھے اپنی امت پر اس نماز کے بار ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں اس نماز کو ہمیشہ اس وقت پر پڑھایا کرتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا پس اس نے نماز قائم کی (یعنی تکبیر کہی)۔
-