Sunan Abu Dawood — Hadith 3823
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قَدْ زَنَتْ فَاسْتَشَارَ فِيهَا أُنَاسًا فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ مُرَّ بِهَا عَلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا مَجْنُونَةُ بَنِي فُلَانٍ زَنَتْ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ قَالَ فَقَالَ ارْجِعُوا بِهَا ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّی يَبْرَأَ وَعَنْ النَّائِمِ حَتَّی يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حَتَّی يَعْقِلَ قَالَ بَلَی قَالَ فَمَا بَالُ هَذِهِ تُرْجَمُ قَالَ لَا شَيْئَ قَالَ فَأَرْسِلْهَا قَالَ فَأَرْسَلَهَا قَالَ فَجَعَلَ يُکَبِّرُ
عثمان ابوشیبہ، جریر، اعمش، ابوظبیان، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک دیوانی عورت کو لایا گیا جس نے زنا کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ طلب کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ اس عورت کے پاس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ گذرے تو فرمایا کہ اس عورت کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے کہا کہ یہ عورت پاگل ہے اس نے زنا کیا تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا سنگسار کرنے کا ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اسے واپس لے چلو پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کو معلوم نہیں کہ تین قسم کے افراد پر سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔ مجنوں سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ بچہ پر سے یہاں تک کہ بڑا (بالغ) ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیوں نہیں پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا پھر تیرا کیا خیال ہے اس عورت کے بارے میں اسے سنگسار کردیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کچھ نہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر اسے چھوڑ دیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور تکبیر کہنے لگے (خوشی میں کہ ایک بڑی غلطی سے اللہ نے بچا لیا)۔
Narrated Ali ibn AbuTalib: Ibn Abbas said: A lunatic woman who had committed adultery was brought to Umar. He consulted the people and ordered that she should be stoned. Ali ibn AbuTalib passed by and said: What is the matter with this (woman)? They said: This is a lunatic woman belonging to a certain family. She has committed adultery. Umar has given orders that she should be stoned. He said: Take her back. He then came to him and said: Commander of the Faithful, do you not know that there are three people whose actions are not recorded: a lunatic till he is restored to reason, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty? He said: Yes. He then asked: Why is it that this woman is being stoned? He said: There is nothing. He then said: Let her go. He (Umar) let her go and began to utter: Allah is most great.