Sunan Abu Dawood — Hadith 406
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ وَلَا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَی نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَکَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ مُغْضَبًا فَقَالَ أَيَسُرُّ أَحَدَکُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَکُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا فِي قِبْلَتِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَکَذَا وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ذَلِکَ أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَی بَعْضٍ
یحیی بن حبیب، بن عربی، خالد ابن حارث، حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کی شاخوں پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک کھجور کی شاخ رہتی تھی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو قبلہ کی سمت بلغم لگا دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھرچ ڈالا پھر غصے کے عالم میں لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے منہ پر تھوکنا پسند کرے گا؟ کیونکہ جب وہ قبلہ کی طرف رخ کرتا ہے تو وہ اپنے بزرگ وبرتر رب کی طرف رخ کرتا ہے اور اس کی داہنی طرف فرشتے ہوتے ہیں لہذا نہ تو وہ اپنی داہنی طرف تھوکے اور نہ قبلہ کی طرف بلکہ اگر اسکو جلدی ہو تو بائیں طرف تھوکے یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے اور پاؤں سے مسل دے اور ابن عجلان نے بھی اس کویوں بیان کیا ہے کہ اپنے کپڑوں میں تھوک کر اس کو الٹ پلٹ کرے۔
-