Sunan Abu Dawood — Hadith 4140
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ إِنْ کَانَ ذَلِکَ الْمُخْدَجُ لَمَعَنَا يَوْمَئِذٍ فِي الْمَسْجِدِ نُجَالِسُهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَکَانَ فَقِيرًا وَرَأَيْتُهُ مَعَ الْمَسَاکِينِ يَشْهَدُ طَعَامَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام مَعَ النَّاسِ وَقَدْ کَسَوْتُهُ بُرْنُسًا لِي قَالَ أَبُو مَرْيَمَ وَکَانَ الْمُخْدَجُ يُسَمَّی نَافِعًا ذَا الثُّدَيَّةِ وَکَانَ فِي يَدِهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَی رَأْسِهِ حَلَمَةٌ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهِ شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ سِبَالَةِ السِّنَّوْرِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ اسْمُهُ حَرْقُوسُ
بشربن خالد، شبابہ بن سوار، نعیم بن حکیم، حضرت ابومریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ وہ گنجا شخص ہمارے ساتھ تھا۔ ایک روز مسجد میں اور وہ رات دن مسجد میں ہی بیٹھا رہتا تھا اور فقیر شخص تھا اور میں اسے دیکھتا تھا کہ مساکین کے ساتھ آجاتا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھانے پر، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ کھاتے تھے اور میں نے اسے اپنا کپڑا دیا تھا۔ ابومریم نے فرمایا کہ اس گنجے شخص کو نافع ذو اللہ کہا جاتا تھا کیونکہ اس کے ہاتھ میں پستان تھا عورت کے پستان کی طرح اور اس پستان کے سر پر ایک گھنڈی تھی جیسے عورت کے پستان کے اوپر حصہ پر گھنڈی ہوتی ہے (جسے بچہ دودھ پیتے وقت منہ میں لیتا ہے) اس پر چھوٹے چھوٹے بال تھے بلی کی مونچھ کی طرح۔
-