TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 421 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 421

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ فَقُلْتُ نَدْعُو بِهِ إِلَی الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّکَ عَلَی مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِکَ فَقُلْتُ لَهُ بَلَی قَالَ فَقَالَ تَقُولُ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ قَالَ وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَی صَوْتًا مِنْکَ فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ قَالَ فَسَمِعَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَائَهُ وَيَقُولُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ قَالَ أَبُو دَاوُد هَکَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ و قَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ و قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ فِيهِ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ لَمْ يُثَنِّيَا

محمد بن منصور، یعقوب، محمد بن اسحاق ، محمد بن ابراہیم بن حارث، محمد بن عبداللہ بن زید، بن عبدربہ، حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے لیے جمع کرنے کی خاطر ناقوس بنانے کا حکم دیا تو میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا جس کے ہاتھ میں ناقوس تھا میں نے اس سے پوچھا اے بندہ خدا تو اسے بیچے گا؟ اس نے کہا تو اسکا کیا کرے گا؟ میں نے کہا ہم اس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے لیے بلایا کریں گے اس نے کہا تو کیا میں تم کو وہ طریقہ نہ بتادوں جو اس سے بہتر ہے میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا کہو اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَشھَدُ اَن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَشھَدُ اَن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ حَیَّ عَلَی الصَلوٰةِ حَیَّ عَلَی الصَلوٰةِ حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پھر وہ شخص پیچھے ہٹ گیا مگر دور نہیں گیا اور کہا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو یہ کہے اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَشھَدُ اَن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ حَیَّ عَلَی الصَلوٰةِ حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ قَد قَامَتِ الصَّلوٰة قَد قَامَتِ الصلوٰة اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ۔ پس جب صبح ہوئی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو خواب میں نے دیکھا تھا بیان کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلا شبہ یہ خواب سچا ہے انشاء اللہ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور جو تم نے خواب میں دیکھا اور سنا ہے وہ بتاتے جاؤ بلال اذان دیں گے کیونکہ انکی آواز تم سے زیادہ بلند ہے پس میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا میں انکو بتاتا جاتا تھا اور وہ اذان دیتے جاتے تھے راوی کا بیان ہے کہ جب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے یہ اذان سنی تو وہ اپنے گھر میں تھے وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گھر سے باہر نکلے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سچا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنا کر مبعوث فرمایا ہے میں نے بھی خواب میں ایسا ہی دیکھا ہے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شکر اللہ ہی کے لیے ہے ابوداؤد کہتے ہیں کہ ایسی ہی روایت زہری کی بواسطہ سعید بن المسیب عبدالہ بن زید سے ہے اور اسمیں ابن اسحاق نے زہری کے حوالہ سے نقل کیا اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اور معمر و یونس نے زہری کے حوالہ سے نقل کیا اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اور اسکو نہیں دہرایا۔

-

Permalink

See the full chapter: اذان کا طریقہ