TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 4342 · Explanation of Respect

Sunan Abu DawoodHadith 4342

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَکِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ وَقُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي وَکَانَ مَسْکَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ قَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِکُمَا شَيْئًا أَوْ قَالَ شَرًّا

احمد بن محمد مروزی، عبدالرزاق، معمر، زہری، علی بن حسین، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معتکف تھے میں ایک رات آپ کی زیارت کے لیے آئی میں نے آپ سے گفتگو کی پھر میں واپسی کے لیے کھڑی ہوئیں اور واپس جانے کے لیے مڑی تو آپ بھی میرے ساتھ کھڑے ہوگئے تاکہ مجھے روانہ کریں اس زمانہ میں حضرت صفیہ کی رہائش گاہ اسامہ بن زید کے گھر میں تھی تو اس دوران انصار کے دو افراد گذرے انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے آپ کے پیچھے ہو لیے آپ نے فرمایا کہ اپنی رفتار اور چال اختیار کرو بیشک یہ صفیہ بنت حیی ہے وہ دونوں کہنے لگے کہ سبحان اللہ یا رسول اللہ (یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ پر بدگمانی کریں) آپ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے ساتھ دوڑتا ہے جس طرح خون (انسانوں کی رگوں میں) دوڑتا ہے پس مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ تم دونوں کے دلوں میں کوئی کھٹکا یا برائی نہ ڈال دے۔

-

Permalink

See the full chapter: مسلمانوں کے ساتھ خوش گمانی رکھنے کا بیان