Sunan Abu Dawood — Hadith 4498
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ کُنَّا نُزُولًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَفِينَا شَيْخٌ فِيهِ حِدَّةٌ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ فَلَطَمَ وَجْهَهَا فَمَا رَأَيْتُ سُوَيْدًا أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ ذَاکَ الْيَوْمَ قَالَ عَجَزَ عَلَيْکَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ فَلَطَمَ أَصْغَرُنَا وَجْهَهَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِهَا
مسدد، فضیل بن عیاض، حصین، حضرت ہلال بن یساف فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سوید بن مقرن کے گھر مہمان بن کر اترے اور ہم میں سے ایک گرم مزاج بوڑھا تھا اس کے ساتھی کو چانٹا مارا۔ میں نے سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس روزے سے زیادہ شدید غصہ میں کبھی نہیں دیکھا انہوں نے فرمایا کہ اب تو اس کی تلافی سے عاجز ہے سوائے اس کے کہ تو اسے آزاد کردے اور بلاشبہ ہم نے خود یکھا کہ ہم مقرن کی ساتویں اولاد تھے اور ہمارا صرف ایک ہی خادم تھا ہمارے چھوٹے بھائی نے اسے ایک چانٹا مارا اس کے چہرے پر حضور اکرم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیں۔
-