Sunan Abu Dawood — Hadith 4512
Narrated by Abdullah ibn Busr
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ فِي آخَرِينَ قَالُوا حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلْ الْبَابَ مِنْ تِلْقَائِ وَجْهِهِ وَلَکِنْ مِنْ رُکْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوْ الْأَيْسَرِ وَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَذَلِکَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ
موئمل بن فضل حرانی، محمد بن عبدالرحمٰن، حضرت عبداللہ بن بسر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی قوم کے دروازہ پر آتے تو دروازہ کی طرف منہ کر کے کھڑے نہ ہوتے بلکہ دروازہ کے دائیں بائیں طرف کھڑے ہوتے اور فرماتے کہ السلام علیکم اور یہ اس لیے کہ کیونکہ اس زمانہ میں دروازوں پر پردے نہ ہوتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Busr: When the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) came to some people's door, he did not face it squarely, but faced the right or left corner, and said: Peace be upon you! peace be upon you! That was because there were no curtains on the doors of the house at that time.