TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 4531 · Explanation of Respect

Sunan Abu DawoodHadith 4531

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَکَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْکُمْ قَالَ أَبُو دَاوُد وَکَذَلِکَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَةَ يَعْنِي الْغِفَارِيَّ

عمروبن مرزوق، شعبہ، قتادہ، حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں تو ہم کیسے جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہ کہو وعلیکم اور تم پر بھی یعنی اگر واقعة تم نے سلامتی کی دعا کی ہے تو تم پر بھی اور اگر موت کی بدعا کی ہے کہ تو وہ بھی تم پر ہی ہو۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس طرح اس حدیث کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابوعبدالرحمن الجہنی اور حضرت ابوبصرہ الغفاری نے روایت کیا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: ذمی کافروں کو سلام کرنے کا بیان